31 دسمبر 2013 - 20:30
سال 2014میں ایٹمی جنگ بڑھنے کے خطرے سے متعلق نام چومسکی کا انتباہ

معروف امریکی ماہر لسانیات فلاسفر اور سیاسی تجزیہ نگار نوم چومسکی نے سال 2014 میں قدرتی ناگہانی اور ایٹمی جنگ کے بڑھتے خطرے سے دنیا کو خبردار کیا۔

ابنا: معروف امریکی لسانیات فلاسفر اور سیاسی تجزیہ نگار نوم چومسکی نے سال 2014 میں قدرتی ناگہانی اور ایٹمی جنگ کے بڑتے خطرے سے دنیا کو خبردار کیا ہے۔

Salon.com کے ساتھ خصوصی انٹریو میں جب ان سے سوال کیا گیا کہ وہ کون سے مسائل ہے جن سے آپ کو تشویس لاحق ہے تو اپنے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک لمبی فرست میں دو مسائل ایسے ہے جس کو بیان کرنا لازمی ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسائل ایسے ہے جن سے زمین پر انسانی وجود کو خطرہ لاحق ہے اور ان میں سے ایک قدرتی آفت ہے جس کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں اور دوسرا مسئلہ ایٹمی جنگ ہے جس کے خطرات ابھی تک کم نہیں ہوئے ہیں اور یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور کئی معنوں میں اس کے خطرات اور زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

نوم چومسکی نے کہا کہ یہ خطرہ دنیا کے طاقتور ممالک سےلاحق ہے اور مقامی معاشرہ اس کو نظر انداز کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

انہوں نے کہا یہ قابل ذکر ہے جو اس آفت سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں ہم انہیں قدیم تہذیب کہتے ہیں اوراس تباہی جسکی کی طرف ہم بڑرہے ہیں اسے نمٹنے کے لئے یہ ممالل آگے دکھائی دے رہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف دنیا کے امیر ترین اور طاقتور ممالک تباہی کیطرف بڑ رہے ہیں اور دوسری طرف ہمیں نظر آتا ہے کہ نامنہاد قدیم تہذیبیں اس سے نمٹنے کے لئے آگے آئی ہیں۔

امریکی جاسوسی سیکنڈل کے کے دائرے اور گہرائی پر بات کرتے ہوئے چومسکی نے کہا کہ اڈوارڈ سنوڈن کے انکشافات سے انہیں کوئی حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ حکومتیں طاقت کا نظام ہیں اور یہ حکومتیں اقتدار میں رہنے اور عوام پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لئے کسی بھی طرح کا حربہ اپنا سکتے ہیں۔

فلپائن پر ایک صدی پہلے امریکی لشکر کشی کی مثال دیتے ہوئے چومسکی نے کہا کہ امریکا نے فلپائن میں کسی بھی ممکنہ بغاوت کو دبانے کے لئے اعلیٰ معیار کے جاسوسی نظام کو استعمال میں لایا۔

.......

/169